https://ahes.in/wp-content/uploads/2026/01/بزرگوں-کو-پکارنا-شرک-ہے.docx
ایک دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ “اللہ تعالیٰ کو فاعلِ حقیقی تسلیم کرتے ہوئے بزرگانِ دین کو وسیلہ امداد اور مظہرِ اعانتِ الہی قرار دیتے ہوئے ان سے استغاثہ کرنا اور ان کو امداد کے لئے پکارنا جائز ہے۔ یہ پکارنا شرک نہیں ہے البتہ ان کی عبادت و پرستش کرنا شرک ہے۔”
بلاشبہ مطلقا پکارنا شرک نہیں ہے، ہم اپنے بچے کو پکار کر بلاتے ہیں، کسی دوست کو آواز دیتے ہیں اور کسی کو زور سے ندا دیتے ہیں۔ یہ شرک نہیں ہے اور نہ یہ پکارنا مابہ النزاع ہے۔ مابہ النزاع پکارنا (جو شرک کی ایک صورت ہے) وہ ہے جو لوگ مردہ (قبروں میں مدفون) لوگوں کو مافوق الاسباب طریق سے پکارتے ہیں۔ جیسے: یا شیخ عبدالقادر شیئاللہ، یارسول اللہ اغثنا، یاعلی مدد وغیرہ۔ یہ پکارنا شرک ہی کے ذیل میں آتا ہے کیوں کہ پکارنے والا ان کی بابت یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ہزاروں میل کے فاصلے کے باوجود یہ فوت شدہ بزرگ میری آواز کو سنتا ہے، میرے حالات سے باخبر ہے۔ وہ حاضر ناظر ہے اور کائنات میں تصُرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے اسی لئے یہ شخص اس بزرگ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس کے نام کی نذر دیتا ہے۔ اس کے نام پر جانور قربان کرتا ہے، اس کی قبر پر غلاف چڑھاتا ہے اور اس کی ناراضی سے ڈرتا ہے۔ اس کا اعتقاد ہوتا ہے کہ اگر میں نے گیارہویں نہ دی (یعنی اس بزرگ کے نام کی نیاز نہ دی) تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے، میرے کاروبار کو نقصان پہنچائیں گے۔ حالانکہ عالم الغیب، نافع و ضار، حاضر و ناظر اور متصرف فی الامور ، صرف اللہ کی ذات ہے اور یہ تمام صفات اللہ کے لئے خاص ہیں، جن میں اس کا کوئی شریک نہیں لیکن یاعلی مدد، یا شیخ عبدالقادر شیئاللہ، وغیرہ پکارنے والا یہ تمام صفاتِ خداوندی اس مُردہ بزرگ میں تسلیم کرتا ہے اور اس بزرگ کو اُن اُلوہی صفات میں شرک مانتا ہے۔
اس عقیدے کے ساتھ کسی بھی مُردہ شخص کو پکارنا، یہی اس کی عبادت و پرستش ہے۔ اسی کو قرآن نے (يدعون) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے جس کے معنی سب کے نزدیک “عبادت و پوجا” کرنے کے ہیں۔ یہ حضرت، عوام کو باور کراتے ہیں کہ ہم تو بزرگوں کو صرف پکارتے ہیں، ان کی عبادت و پرستش نہیں کرتے حالانکہ اس طرح مافوق الاسباب طریقے سے کسی کو پکارنا، یہی اس کی عبادت ہے۔ اس لئے دُعا “پکارنا” بھی بلا اختلاف عبادت ہی سمجھی جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(الدعا هو العبادة) (جامع الترمذي’ الدعوات’ باب منه “الدعاء مخ العبادة” ح: 3372)
“پکارنا (دعا کرنا) عبادت ہی ہے۔”
بلکہ دوسری حدیث میں فرمایا:
(الدعا مخ العبادة) (جامع الترمذي’ الدعوات’ باب منه “الدعاء مخ العبادة” ح: 3371)
“دُعا (پکارنا) عبادت کا مغز ہے۔”
اور قرآن کریم نے بھی دُعا کو عبادت ہی کہا ہے، فرمایا:
(وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ﴿٦٠﴾) (المومن: 60)
“اور تمہارے رب نے فرمایا: “مجھے پکارو! میں تمہاری پکار کو قبول کروں گا، بلاشبہ جو لوگ میری عبادت (یعنی مجھے پکارنے اور مجھ سے دعائیں کرنے) سے انکار کرتے ہیں، عنقریب وہ جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوں گے۔”
یہاں (يستكبرون عن دعوتي) کی جگہ اللہ تعالیٰ نے (عبادتي) کے الفاظ استعمال فرمائے اور قرآن مجید کا یہ سیاق صاف بتلا رہا ہے کہ مافوق الاسباب طریق سے کسی کو پکارنا اور حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر اس سے دُعا کرنا اس کی عبادت ہی ہے اِس لئے مُردہ بزرگوں کو مدد کے لئے پکارنا اور ان سے استغاثہ کرنا اور یا شیخ عبدالقادر شیئاللہ، یاعلی مدد وغیرہ کہنا ان کی عبادت و پرستش ہی ہے۔ قیامت کے دن یہ بزرگ اپنی اس عبادت و پرستش کا بالکل انکار کر دیں گے اور بارگاہ الہی میں عرض کریں گے کہ مولائے کریم ہم تو ان کی عبادت اور پوجا سے جو یہ (دُعا و استغاثہ کی صورت میں) ہماری کرتے تھے، بالکل بے خبر تھے:
(إِن كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ ﴿٢٩﴾) (يونس: 29)
یہاں بھی فوت شدہ بزرگوں سے دُعا کو ان کی عبادت ہی کہا گیا ہے جس سے وہ روزِ قیامت انکار کریں گے اور کہیں گے کہ ہمیں تو ان کی عبادت (دُعا و پکار) کا کوئی علم ہی نہیں۔ بہرحال کسی شخص کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر مافوق الاسباب طریق سے اسے پکارنا، اس سے استمداد کرنا اور اس سے دعائیں کرنا یہ اس کی عبادت ہی ہے۔ اسے اگر مگر اور چونکہ چنانچہ سے جائز قرار دینا مغالطہ انگیزی ہے
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
Details
| Writer / Speaker | |
|---|---|
| Remarks | بزرگوں کو پکارنا شرک ہے : اس موضوع پر ایک مختصر جامع مضمون |
| Language | Urdu |
| Subject | 0001 - EMAAN O AQEEDA - ایمان و عقیدہ, 01 - TAWHEED O SHIRK - توحید و شرک |
| Digital Type | WORD Doc |
